Widget Image

Sign Up To The Newsletter

Be part of the Twittistaan community.

سوتے نہیں ہو تم لوگ؟

انسان ہے بڑا اصول پسند، اب چاہے وہ مانے نہ مانے۔ دوسروں کے سامنے تمیز سے بیٹھو، کس طرح کی باتیں کرو، دن میں ہلکے اور رات میں تیز رنگ پہنو وغیرہ۔ جی، انسان کے بنائے ہوئے اصولوں کی بات کر رہی تھی میں۔ خیر اس طرح کا ایک اصول میں نے بھی اپنے لئے بنا رکھا ہے۔ اصول کچھ یوں ہے،
“بارہ بجے کے سوشل میڈیا کا استعمال بند کر دینا چاہیے”
لیکن کہتے ہیں نا، دوجے دی اکھ دا ککھ نظر آ جاوے، تے اپنے گناواں دا شہتیر نہ دسے۔ خیر، بات کدھر کو چل پڑی، مجھے تو اس اصول کی وجہ بتانی تھی۔
دراصل بات یہ ہے کی آدھی رات کے بعد آپ سوشل میڈیا کا رخ کریں تو ٹائم لائن عجیب و غریب رنگ دکھاتی نظر آئے گی، یا شاید یہ نیند کا اثر ہوتا ہے۔ بہرحال اس بات پر غور صرف میں نے نہیں کیا (ایویں بعد میں بدنامی میرے سر نہ ہو)۔
چلیں دیکھتے ہیں پھر کیا رنگ بکھیرے جاتے ہیں:
دوسروں کو نصیحت، خود کو فصحیت۔ میں کہتی ہوں آپ خود سو جاؤ باقی کیہڑے تواڈی ذمہ داری؟
جب میں اس کشمکش میں ہوتی ہوں کہ کمرے کی لائٹ بند کروں یا ایسے ہی سو جاؤں، کچھ لوگ زندگی کے ضروری فیصلے کر رہے ہوتے ہیں۔
اور کچھ لوگوں کو تو یہ بتانا پڑے گا کہ کھانے کا وقت تو نکل گیا ہے۔
پورا دن چھوڑ کے آدھی رات کو باتوں کا احساس کرنا بھی کمال ہے۔
گانے میں بھی اس پہر سنتی ہوں مگر ٹویٹ کر کے دوسروں کو انٹرٹین نہیں کرتی، ہائے!
نظر میں اور بھی لوگوں کی اقسام ہیں جو کہ اپنے منتشر خیالات سے ٹائم لائن کو رونق بخشتے ہیں، مثلا
مگر ڈر ہے کہ کہیں آپ سب بور نہ ہوجائیں اور مزید خوبصورت لوگ مجھ سے خفا نہ ہوجائیں، باوجود اس کے کہ میرا تو اصول ہے
“ہم تو کریں سچی بات، چاہے کسی کو آگ لگے”

Comments

  • DuFFeR - ڈفر
    June 25, 2015

    لیکن ہم تو بولیں ہر ایک کی بات میں، کیونکہ ہر ایک کو برا لگے 😀
    اپنی ٹائپ کے ٹویٹری لوگوں کا ذکر کیوں نی کرا؟
    جو اپنی سہیلیوں کے ساتھ ہمیشہ بس خودستائشی پروگرام ہی چلائے رکھیں
    اور آدھی آدھی رات کو گلوریے جینزوں کی تصویریں تو میں اپلوڈوں نا؟

  • نعیم
    June 29, 2015

    یہ تو رات نو بجے والا خبرنامہ ہو گیا۔ البتہ اس پیٹرن کی پوسٹس کا ایک فائدہ ہے، ہفتے بعد دوبارہ ٹویٹر سے مال اکٹھا کرو اور ایک نئی پوسٹ بنا لو۔ ٹویٹر پر فعال ہونا البتہ لازمی ٹھہرا
    یہ ایک اچھی بلاگ پوسٹ تھی

Post a Comment