Widget Image

Sign Up To The Newsletter

Be part of the Twittistaan community.

آن لائن بیٹھک

online bhaitak urdu blog

جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا ہے ہماری زندگی میں بہت تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ ٹھہریں۔۔ رکیں۔۔ ! یہ پوسٹ نئے اور پرانے زمانے کے بورنگ ٹاپک پر نہیں ہے بلکہ ہم سب کے پسندیدہ اور ہمارےگهر والوں کے رقیب، ٹوئٹر پر ہے۔ نئے اور پرانے زمانے کا موازنہ اس لیے کیا ہے کہ پہلے زمانے میں لوگ ڈائری لکھا کرتے تھے آج کل ٹویٹس کیا کرتے ہیں، دن رات صبح شام لگا تار۔ اپنے سونے جاگنے اٹھنے بیٹھنے کا حال۔ بہت سے لوگ ٹوئٹرکو فیس بک سے کنفیوز کر دیتے ہیں لیکن جو لوگ ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں بس وہی لوگ اسکے چارم کو سمجھ سکتے ہیں۔ جو سب سے مزے کی بات ہے وہ یہ کہ ٹوئٹر پہ لوگ آپکو آپکے چہرے کی خوبصورتی اور خاندانی رکھ کھاؤ کی وجہ سے نہیں بلکہ آپکی اپنی انفرادی شخصیت اور سوچ کی وجہ سے جانتے ہیں بلکہ اگر کوئی حقیقی زندگی میں جاننے والا نظر آئے تو آپ سب سے پہلے اسکو بلاک کریں گے۔ یہاں پہ لوگوں کے نام نہیں ہیں، چہرے نہیں ہیں بلکہ ایک امیج ہے جسکی وجہ سے لوگ آپکو جانتے ہیں، پسند کرتے ہیں اور شدید نفرت بھی کرتے ہیں۔ یقین مانیں اگر آپ ان ٹوئٹری لوگوں کو اصل زندگی میں ملیں تو بالکل پتہ نہ لگے کہ انکے ہزاروں فالوؤرز ہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنکو گھر میں دوسری بار مانگنے پہ سالن نہیں دیا جاتا اور یہاں سیلیبریٹی بنے بیٹھے ہیں۔ جبکہ اسکے برعکس کچھ لوگ اپنی حقیقی زندگی میں بےحد کامیاب ہونے کےباوجود ٹوئٹر پہ فالو بیک، فیورٹ اور ریٹویٹ کی بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔

[blockquote style=”3″]ٹوئٹر ماڈرن ڈائری ہے جہاں ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ہونے والے اچھے، برے، بورنگ ہر طرح کے واقعات کا ذکر کرتے ہیں۔[/blockquote]

ٹوئٹر ماڈرن ڈائری ہے جہاں ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ہونے والے اچھے، برے، بورنگ ہر طرح کے واقعات کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ ایک طرح کا شکایت نامہ بھی ہے جہاں ہم خود پہ ہونے والےہر چھوٹے سے چھوٹے ظلم اور ناانصافی کو کھینچتے تانتے ہیں اور اپنی ہر حسرت اور ناکامی بھی خوش ہو کے بیان کرتے ہیں۔ اسمیں ہر دن اور وقت کے لحاظ سے ہماری زندگی کے واقعات قلمبند ہیں اور مرنے کے بعد ہمارے بچے ہماری ٹویٹس پڑھ کے ہمیں یاد کریں گے اور اپنی زندگی سے ریلیٹ کرنے کی کوشش کریں گے۔ جبکہ اگر ہمارا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہمارے مستقبل کے شریک حیات کے ہاتھ لگ جائے تو بھید کھل جائے گا کہ کتنے کرش تھے ہمارے اور ہم کتنوں کے۔۔۔۔ زمانہ بدل رہا ہے تو ہمارے بڑھاپے میں ہمارے پوتے پوتیاں بھی اپنی زندگی اور کسی اور سوشل میڈیا میں مصروف ہونگے تب یہی ٹوئٹر آرکائیو ہی ہمارا دل بہلانے کے کام آئے گا جو کہ ہمارے بدلتے ہوئے رویے، جذبات، احساسات اور ٹوئٹری “سیاسی” جدوجہد کا گواہ ہوگا۔

اِن شارٹ، کیپ ٹویٹنگ اینڈ ریٹویٹنگ مائی پوسٹ

 (@iZoyaAli)جاننے والوں میں انجان – زویا علی خان

Comments

  • anji
    October 23, 2014

    For me twitter is like you are chatting on wrong numbers…….and you’re fearless that nobody knows you …In olden days we were doing same on landlines and now on social media especially on twitter…

    reply
  • jharooo pocha
    October 23, 2014

    Very impressive zoya ali khan…. m ur huge fan….kash man apko asal zindge man b jan skti n apko mil skti… mjy tu lgta hy ap apni batoon sy b xada haseen hnge asal zindge man…. Keep it up…twiter k ilawa kisi aur topic per b apna izhare khayal kren ji plzzz….;)

    reply
  • Malika.Aalia
    October 23, 2014

    اچھا لکھ لیتی ہیں آپ
    بات یہ ہے کہ ٹوئٹر نے بہت سوں کی زندگی اوپر نیچے بھی کردی ہے
    فون کو دیکھ بھی لیں تو عقب سے آواز آتی ہے
    “اس ٹویئٹر کو الله پوچھے”
    تو ایسے میں ٹوئٹر بڈی ہی غم سمجھ سکتے ہیں ایک دوسرے کا
    آپ کو جان کر خوشی ہوئ

    reply
  • mina
    October 23, 2014

    impressive post, keep it up im seeing good talent in u.i liked ur whole post but 2 sentences I liked the most
    ist “ghar me dosri bar salan ni milta yahan celebrity bne bethe”
    2nd, “mustaqbil k sharek e hayat k hath tweetry ac lag jae tu pta chale hmare kitne crush aur hum kitno k”
    congrats,

    reply
  • پرویز
    October 24, 2014

    بہت کمال ہے ۔ اور انتہائی نیچرل ہے۔ ساری باتیں نیچرل ہیں۔
    لکھتی رہو ایسے ہی۔

    reply
  • قاضی
    October 24, 2014

    آپ ضرور لکھا کریں، اچھا لکھا ہے

    reply
  • Amjad
    October 24, 2014

    i agree with your views

    reply
  • شہرام
    October 24, 2014

    رواں اور دلچسپ انداز تحریر
    گہرا مشاہدہ اور بہترین تجزیہ۔
    امید ہے کہ لکھتی رہیں گی۔
    بہت عمدہ تحریر

    reply
  • Ibn E Abi Dunya
    October 25, 2014

    بہترین.
    اچھا لکھا ہے. لکھتی رہا کریں. 🙂

    reply

Post a Comment